رمضان میں افطار کھلانا بڑے شرف کی بات ہے۔ اسی کڑی محنت اور قربانی کے نتیجے میں خاندان اس با برکت موقع پرمل کر اچھا وقت گزار پاتے ہیں۔ شفٹ چھوٹی ہو جانے کی وجہ سے کچن اسٹاف پر کام کا کافی دبائو ہوتا ہے ۔ ڈش چکھنے کا موقع نہ ملنے اور زیادہ کام ہونے کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

رمضان کے دوران روزے میں جسمانی تھکاوٹ کچن میں افطار تیار کرتے رہنے سے اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ ساتھ ہی وقت کی کمی ، کام کی زیادتی اور لوگوں کی رمضان کے حوالے سے خاص امیدوں کی وجہ سے شیف اور دیگراسٹاف کے پاس اپنا خیال رکھنے کا وقت مشکل سے ہی بچتا ہے ، جس کے مجموعی طور پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ گھر والوں کے ساتھ افطار نہ کرنے کا افسوس ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یہاں تک کے روزہ نہ رکھنے والے اسٹاف ارکان پربھی اپنے روزے دار ساتھیوں کا خیال کرنے کا دبائو ہوتا ہے ۔

اکثر کچن اسٹاف کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ اُن کی اس سخت محنت کو سراہا بھی نہیں جاتا ۔ خصوصاًرمضان کے دنوں میں جب ان پرہر طرف سے اتنا زیادہ پریشر ہوتا ہے

 

سب سے ضروری ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ اس کا جسمانی ، ذہنی اور جذباتی صحت پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے ۔ پھر اسے ہر ممکن حد تک کم کرنے کے لئے یہ اقدامات اٹھائے جائیں

  • ذہن پر حد سے زیادہ زور دینے کے بجائے آسان مینو ترتیب دیا جائے – مینیو میں آسانی سے بنائے جانے والی ڈشز، جیسا کہ ہمارا جمیکن سٹائل روسٹڈ چکن اور موکا جاوا کسٹرڈ کا اضافہ کیجیے۔
  • اسٹاف کو ذہنی سکون حاصل کرنے کے لئے بریکز دئے جائیں جس دوران وہ کھلی ہوا میں سانس لے سکیں
  • گھر فون کرنے کا وقت دیا جائے
  • تمام اسٹاف ممبران کے مل کر افطار کرنے کا بندو بست کیا جائے
  • تمام اسٹاف ممبران ایک دوسرے کی محنت کو سراہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں

یہ بھولنا بہت آسان ہے کہ ایک افطار تیار کرنے میں پورے کچن اسٹاف کی کتنی محنت اور قربانی شامل ہوتی ہے ۔ اس لئے تھوڑی سی پلاننگ اور قوتِ ارادی سے اسٹاف کو خوش رکھا جا سکتا ہے اور ان کو اپنا کام سرانجام دینے کے لیے ضروری تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے ۔اور اسی طرح ہی یادگار رمضان سب کے لئے ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔