ایک سسٹینیبل مستقبل کو فروغ دینے کے لیے، کنور اور ڈبلیو ڈبلیو ایف (وائلڈ لائف فنڈ) نے مل کر اناج کی 50 اقسام، اپنے ذائقے، غذائی افادیت اور کم ماحولیاتی اثرات کی بناء پر، علیحدہ کی ہیں۔

ان میں شامل ہیں مختلف اقسام کے اناج، پھلیاں، دالیں، سبزیاں، مشروم، میوے اور بوٹیاں۔

آپ جیسے شیف حضرات کی مدد سے ہم ان اجزاء کو عوام الناس کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کے دنیا میں 5000 اقسام کے اناج ہیں جو کھائے جا سکتے ہیں، اور انسان صرف 12 اقسام کے اناج اور 5 اقسام کے جانوروں کے گوشت پر اکتفاء کر کے اپنا 75% کھانا تیار کرتے ہیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے ہم قدرت کی دی گئ مختلف اقسام کی غذائی افادیت اور مختلف اقسام کے ذائقوں سے محروم رہتے ہیں۔ مستقبل کے 50 کھانوں کے پروگرام کے تحت ہم اس مسلئہ کو ہل کر سکتے ہیں۔ زیادہ اقسام کے اناج کا مطلب ہے زیادہ اقسام کے پودے زمین کے لیے زیادہ زرخیزی اور عوام کے لئے زیادہ اور مختلف اقسام کی غذا۔

یہ مستقبل کے 50 اناج مرتب کیے گئے ہیں, مختلف اقسام کے کھانے تیار کرنے کے لیے۔ نئے اجزاء اور کھانے فراہم کرنے کا مقصد آپ کے مینو کو بڑہانا اور آپ کے گاہکوں کو نئے اور لذیذ ذائقوں سے متعرف کروانا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں

گرمی کی شدت اور خشک سالی کو آرام سے برداشت کرنے والی سبزی کا پودہ بھنڈی کا ہے۔ چنانچہ بدلتےموسم اور ماحولیاتی اثرات کے زمانے میں آسانی سے کاشت ہو سکتا ہے۔اس میں شامل ہیں اینٹی آکسیڈنٹس اور بیٹا کیریٹون۔ بھنڈی اسٹیم کی جاسکتی ہے، فرائ (تلی) جا سکتی ہے اور سینکی (گرل) کی جا سکتی ہے۔ مصالحجات اور چٹنیوں کے ساتھ اس کا ذائقہ مزید اچھا ہو۔سکتا ہے۔

پالک تیزی سے تیار ہوتی ہے اور ٹھنڈے علاقوں میں سال ہا سال کاشت کی جا سکتی ہے۔ پالک دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے پکائ اور کھائ جاتی ہے۔ ۔سٹیم، فرائ اور بھجیا کے علاوہ، یہ کری ، سوپ، پاستا، سالن اور سلاد کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

سرسوں کے بیج میں تیل کی فراوانی ہوتی ہے، اس کے علاؤہ اس میں تانبے اور میگنیشیم 48 کی بہتات ہے۔ یہ کچے کھاے جا سکتے ہیں، تلے ہوئے بھی اور پیسٹ کی شکل میں یہ تہینی کہلاتے ہیں۔یہ مچھلی میں کرکرا پن لاتے ہیں سلاد، سوپ نوڈل اور چاولوں کی ڈشوں میں بھی ذائقے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔سرسوں کا تیل اپنی خوشبو کی وجہ سے مختلف کھانوں میں اور سلاد پے لذت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔

مستقبل کے 50 کھانے اپنے گاہکوں کو پیش کرنا شروع کریں تاکہ ان کو بھی پتا چلے کہ مستقبل کے لذیذ، سسٹینیبل اور غزائیت سے بھرپور کھانے کیسے دکھیں گے۔



آپ شروعات کے لیے ہمارے اپنے شیفس کے ایجاد کیے گئے کھانوں کی تراکیب دیکھ سکتے ہیں جو مستقبل کے 50 کھانوں کے اجزاء کو استعمال کر کے بناے گئے ہیں۔